ڈاکٹر مبارک علی کا نظریہء تاریخ: مختصر جائزہ
امین ضامن بلوچ
زِیر نظر مضمون میں جن بنیادی نُکات پر راقم ڈاکٹر مبارک
علی کے نظریہء تاریخ کو زِیر بحث لا رہا ہے، اسکے بنیادی مقدمات (premises) ڈاکٹرمبارک علی کی کتاب ’’تاریخ کی دنیا‘‘ سے
اخذ کیے گئے ہیں۔ مذکورہ کتاب کی ابتدائیہ میں ڈاکٹر مبارک علی رقمطراز ہیں کہ
’’اس کتاب میں تاریخ کے بارے میں وہ مشاہدات اور خیالات ہیں جو میرے مطالعہ کے
دوران آئے‘‘[1]۔
جن خیالات کا اظہار اور ڈاکٹر مبارک علی کے نظریہء تاریخ کے حوالے سے راقم کرے گا،
اس نظریہ کی کُلی تشکیل کا خالق ڈاکٹر مبارک علی تو نہیں ہیں لیکن انہوں نے تاریخ
کے مطالعہ سے جو راہ پاکستان میں تاریخ نویسی کے لئے ڈالی ہے، اس سے نہ صرف تاریخ
کے مختلف جہتوں کی ترقی پذیر صورت عیاں ہوگی بلکہ اس سے تاریخ کے گمشدہ پہلوں کی مناسبت سے تاریخ میں معروضی اضافہ
ہوگا۔ ذیل میں ڈاکٹر مبارک علی کی نظریہء تاریخ کو مذکورہ بالا نکات کی روشنی میں
پیرویا جائے گا۔
اگر تاریخ
میں نئے نظریات اور ماخذات کو شامل نہ کیا جائے تو اس سے مورّخ کی رائے …. درست سمھجی جائے گی اور اسے چیلنج نہیں کیا جائے گا[2]۔ رائے کی استواریت سے تاریخ
میں غیر متناسب سمجھی جانی والی چیزوں کی تاریخ کو اندھیرے میں رکھا جائے گا، جس
سے وہ تاریخی واقعات گمشدہ ہونگے۔ جبکہ مذکورہ رویّہ تاریخ نویسی میں ایک نقصان سے
کم نہیں۔
تاریخ میں
نئے نظریات اور ماخذات کو شامل کرنے کا ایک ذریعہ گُمشدہ اوراق کو تاریخ میں زِیر بحث لانا ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی
اس بات کی تصدیق کے لئے اپنی مذکورہ کتاب میں کِسان، عورت، کمزور، نوآبادیت کے
زِیر نگیں مقامی لوگ، اقلیت اور خانہ بدوش
کو زیر بحث لاتا ہے۔ جس تاریخ کو آج ہم سبقتی نگاہ (privileged view) سے دیکھ اور
پَرکھ رہے ہیں۔ اس تاریخ کی تشکیل میں ان گُمشدہ واقعات اور ماخذات کا تاریخی
کردار کارفرماں ہے۔
ان کی
تاریخی وقعت کو نظرانداز کرنے کی ایک وجہ مورّخ کی طرف سے تعمیر شُدہ خول میں
واقعات کے انتخاب اور بیان کرنے کا جانبدارانہ رویّہ ہے۔ ان سب نے اپنی رائے کی
ایسی گہری قدروں پر بات کی جس سے انکے بیانیہ کو تحفظ میسر آتا تھا بلکہ آتا ہے۔رائے
عامہ انکی تشکیل شُدہ تاریخ میں خود کو محفوظ تصور کرتے تھے اور ہیں۔ ان مورّخین
کے خول یا تو مذہبی، سیاسی، نسلی یا قومی ہوتے تھے، جبکہ بعض اوقات
طاقت کے زور پر مورّخ ایک ہی سانس میں سب اخوال کو پیرو کے اپنے تحفظ کا بندوبست
ماضی سے کرتے رہتے تھے اور ہیں۔اس ضمن میں مورّخ انسانی اعمال کو اپنے تشکیل کردہ
مخصوص ضابطہ کے تحت لانا چاہتےہیں اور ماضی کو ایک مخصوص نگاہ سے تراش کر حال کو
اپنے قابو میں پیرونے کے خواہاں ہیں۔
دوسری وجہ مورّخ کی رائے کا سبقتی طور پر مرّوج ہونا ہے۔ کیونکہ اس
سبقت سے ایک مخصوص ضابطہء کار تیار کیا جاتا ہے۔ سبقتی رائے مذہبی، سیاسی، نسلی
اور قومی بنیادوں پر مستعمار لئے جاتے ہیں۔جبکہ دنیا میں نئے ماخذات اور نظریات کی
روشنی میں تاریخ کی جدید تشکیلات سامنے آ رہے ہیں۔ اس ضمن میں انالز اور سبالٹرن
مکاتبِ فکر کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔جب تاریخ کی تشکیل نئے ماخذات اور نظریات پر
ہوتی ہے تو تاریخ سے سبق حاصل کرکے ان اسباق پر عمل کیا جاتا ہے۔
مگر ہمارے
یہاں پاکستان میں اب تک مورّخ کی رائے اس قدر گہری جانی جاتی ہے کہ وہ اپنی نوعیت
میں ناقابلِ چیلنج رہتی ہے۔ کیونکہ ایک مخصوص سبقتی نگاہ سے تاریخ کی تشکیل ایک
مخصوص ضابطہ کی تحفظ میں کی جاتی ہے تاکہ تاریخ کی مخصوص تشکیل سے حال پر تابعیتی
قابو پایا جاسکے۔ اس طرح ہمارے یہاں تاریخ کی سبقتی تشکیل کا بنیادی ماخذ و نظریہ
دوقومی نظریہ ہے جو ہمارے مورّخوں کی طرف سے دی گئی ایک استوار رائے ہے، جس کو
چیلنج کرنا گویا عدم تحفظ کا شکار ہونا ہے۔ اس طرح ہم نہ تاریخ سے سبق حاصل کرسکتے
ہیں اور نہ ہی ان پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔
ڈاکٹر مبارک
علی سمجھتے ہیں کہ تاریخ سے سبق حاصل کرنا اور نئے ماخذات و نظریات کی روشنی میں
تاریخ کی تشکیل سے ایک تہذیب یا ریاست خود مکتفی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن رہ
سکتی ہے۔ اس حوالے سے وہ چین کی تہذیب کا حوالہ پیش کرتے ہیں جس میں کنفوشس
اجماعیت کی تبلیغ اور ڈاؤازم انفرادیت کی تبلیغ کرتا ہے۔
راقم کی
نگاہ میں ڈاکٹر مبارک علی کے نظریہء تاریخ کو ان الفاظ میں پیش کیا جاسکتا ہے کہ تاریخ
کی تشکیل اگر نئے ماخذات و نظریات کی روشنی میں کی جائے تو اس سے ایک استوار رائے
کا قیام ممکن نہیں رہتا اور ایک سبقتی رائے پروان نہیں چڑھتی بلکہ نئے ماخذات و
نظریات کی روشنی میں تاریخ سے سبق حاصل کیا جاسکتا ہے اور ان پر عمل کر کے تاریخ میں
ترقی کی راہیں کُھل جاتی ہیں، جس سے تاریخی تعصبات کا خاتمہ ہوتا ہے اور ایک
معروضی تاریخ اپنے نشیب و فراز میں آگے کی جانب حرکت کرتی رہتی ہے۔
No comments:
Post a Comment